حرکات: زبر، زیر، پیش، جزم، تشدید اور تنوین
عربی حرکات کی وضاحت: زبر، زیر، پیش، جزم، تشدید اور تینوں تنوین، ان کے عربی نام، جدول، مثالیں، اور یہ کہ عام چھپائی میں انہیں کب چھوڑ دیا جاتا ہے۔
· تحریر Amaan
عربی میں حرکات کیا ہیں؟
حرکات وہ چھوٹی علامتیں ہیں جو عربی حروف کے اوپر یا نیچے لکھی جاتی ہیں اور چھوٹی آوازیں بتاتی ہیں: a کے لیے زبر (فتحہ)، i کے لیے زیر (کسرہ) اور u کے لیے پیش (ضمہ)۔ ان کے ساتھ جزم (سکون) آتا ہے جو بتاتا ہے کہ حرف پر کوئی حرکت نہیں، تشدید جو حرف کو دوہرا کرتی ہے، اور تنوین، یعنی لفظ کے آخر کی تین صورتیں جو ن کی آواز بڑھاتی ہیں۔ ان سب علامتوں کو ملا کر تشکیل کہتے ہیں۔ عام چھپائی میں ان میں سے زیادہ تر نہیں لکھی جاتیں۔
تین علامتیں چھوٹی حرکات لکھتی ہیں: زبر (a) اور پیش (u) حرف کے اوپر، زیر (i) حرف کے نیچے۔
جزم ایک چھوٹا دائرہ ہے جس کا مطلب ہے کہ حرف کے بعد کوئی حرکت نہیں۔
تشدید کا مطلب ہے کہ حرف دو بار پڑھا جائے۔ اس سے لفظ کا معنی بدل سکتا ہے۔
تنوین میں حرکت کی علامت دو بار لکھی جاتی ہے اور ن کی آواز بڑھ جاتی ہے: an، in، un۔ یہ اسمِ نکرہ کی علامت ہے۔
لمبی حرکت، چھوٹی حرکت اور اس کے بعد اس کا اپنا حرف ہے: زبر کے بعد ا، زیر کے بعد ي، پیش کے بعد و۔
قرآن، بچوں کی کتابوں اور سیکھنے والوں کے لیے لکھے گئے متن میں ہر علامت چھپتی ہے۔ اخبارات اور ناولوں میں تقریباً کوئی نہیں۔
حرکات کیا ہیں، اور تشکیل کیا ہے
عربی حروفِ تہجی میں 28 حروف ہیں، اور یہ سب حروفِ صحیح یا لمبی حرکات لکھتے ہیں۔ چھوٹی حرکات کا کوئی حرف نہیں۔ وہ اس حرف پر چھوٹی علامت بن کر لکھی جاتی ہیں جس کے بعد وہ بولی جاتی ہیں، اور یہی علامتیں حرکات ہیں۔ حرکت کا لفظی معنی وہی ہے جو اردو میں ہے، یعنی ہلنا: حرکت آپ کو ایک حرف سے اگلے حرف تک لے جاتی ہے۔ اسی لیے جس حرف پر حرکت ہو اسے متحرک کہتے ہیں، اور جس پر نہ ہو اسے ساکن۔
تشکیل، یعنی “شکل دینا”، زیادہ وسیع لفظ ہے۔ اس میں تینوں حرکات کے ساتھ وہ سب کچھ شامل ہے جو تلفظ متعین کرنے کے لیے حروف کے گرد لکھا جاتا ہے: جزم، تشدید اور تنوین۔ جو نقطے ب کو ت سے الگ کرتے ہیں وہ الگ چیز ہیں۔ وہ حرف کا حصہ ہیں اور کبھی نہیں چھوڑے جاتے۔
یہ شکلیں دراصل چھوٹے حروف ہیں۔ پیش ایک ننھا سا و ہے، جو لمبے u کا حرف ہے۔ زبر اور زیر چھوٹی لکیریں ہیں، اور تشدید حرف ش کا اوپری حصہ ہے۔ یہ نظام آٹھویں صدی عیسوی کے نحوی خلیل بن احمد سے منسوب ہے۔
تین چھوٹی حرکات: زبر، زیر، پیش
یہ تینوں آپ قاعدے سے جانتے ہیں؛ نئی چیز صرف ان کے عربی نام ہیں۔ زبر کو عربی میں فتحہ کہتے ہیں: حرف کے اوپر ایک چھوٹی ترچھی لکیر، آواز چھوٹا a۔ زیر کسرہ ہے: وہی لکیر حرف کے نیچے، آواز چھوٹا i۔ پیش ضمہ ہے: حرف کے اوپر ایک چھوٹا سا خم، آواز چھوٹا u۔ حرف ب پر یہ ba، bi اور bu بناتے ہیں۔
تین حروف کا ایک ڈھانچا دکھا دیتا ہے کہ یہ کیوں اہم ہیں۔ حروف ك ت ب کو kataba “اس نے لکھا”، kutiba “وہ لکھا گیا” یا kutub “کتابیں” پڑھا جا سکتا ہے۔ حروف بالکل ایک ہیں۔ انہیں صرف حرکات الگ کرتی ہیں، یا پھر پڑھنے والے کا علم۔
جزم (سکون): وہ حرف جس پر کوئی حرکت نہیں
جزم، جسے عربی میں سکون کہتے ہیں، حرف کے اوپر ایک چھوٹا دائرہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حرف کے بعد کوئی حرکت نہیں آتی، اس لیے وہ پچھلے حرف سے مل کر پڑھا جاتا ہے۔ مَكْتَب میں ك پر یہ دائرہ بتاتا ہے کہ لفظ mak-tab ہے، ma-ka-tab نہیں۔ برصغیر کے قرآنی نسخوں میں جزم عموماً دائرے کے بجائے ایک چھوٹے سے خم کی شکل میں چھپتا ہے؛ مطلب وہی ہے۔
جب آپ جملے کے آخر میں رکتے ہیں تو عربی آخری حرف کو ساکن پڑھتی ہے؛ اسی کو وقف کہتے ہیں۔ اسی لیے kitābun “ایک کتاب”، جب آخری لفظ ہو یا اکیلا بولا جائے، kitāb پڑھا جاتا ہے۔
تشدید: حرف کو دو بار پڑھیں
تشدید کی علامت، جسے عربی میں شدّہ کہتے ہیں، حرف کے اوپر چھوٹے سے w جیسی دکھتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حرف دوہرا ہے: حرکت سے پہلے آپ اس پر لمحہ بھر ٹھہرتے ہیں۔ لفظ کے اندر دوہرے حرف کو عربی دو بار نہیں لکھتی۔ وہ ایک حرف لکھتی ہے اور اس پر تشدید۔
مشدّد حرف کی حرکت تشدید پر لکھی جاتی ہے۔ زبر اور پیش اس کے اوپر آتے ہیں۔ زیر تشدید کے نیچے آتا ہے، یا حرف کے نیچے۔
تشدید سے معنی بدل جاتا ہے۔ دَرَسَ یعنی darasa کا مطلب ہے “اس نے پڑھا”۔ دَرَّسَ یعنی darrasa کا مطلب ہے “اس نے پڑھایا”۔ اردو کے درس اور مدرّس انہی دو سے ہیں۔
تنوین: وہ ن جو حرف بن کر نہیں لکھا جاتا
تنوین اسم یا صفت کے آخر میں دو بار لکھی ہوئی حرکت ہے، وہی جسے آپ دو زبر، دو زیر اور دو پیش کہتے ہیں۔ یہ حرکت کے بعد ن کی آواز بڑھاتی ہے: دو زبر an، دو زیر in، دو پیش un۔ یہ ن سنائی دیتا ہے مگر حرف ن کی صورت میں کبھی نہیں لکھا جاتا۔
یہ عموماً نکرہ کی علامت ہے۔ كِتَابٌ یعنی kitābun “ایک کتاب” ہے؛ الْكِتَابُ میں، جہاں الف لام آ گیا، تنوین غائب ہو جاتی ہے۔ تنوین کی تین صورتیں تین اعرابی حالتیں ہیں، یعنی رفع، نصب اور جر، اسی لیے ایک ہی لفظ un، an یا in پر ختم ہو سکتا ہے۔
دو زبر والی صورت ایک زائد الف کے ساتھ لکھی جاتی ہے، جو اس حرف کے بعد آتا ہے جس پر دو زبر ہوں: كِتَابًا۔ جو الفاظ ة پر ختم ہوں ان میں یہ الف نہیں لگتا۔ اسی وجہ سے عربی کے اتنے متعلقِ فعل الف پر ختم ہوتے ہیں: شُكْرًا شکریہ؛ جِدًّا بہت۔ اردو کے فوراً، تقریباً اور مثلاً میں یہی دو زبر ہیں۔
لمبی حرکات، اور دو علامتیں جن کے بارے میں مبتدی پوچھتے ہیں
لمبی حرکت، چھوٹی حرکت اور اس کے بعد اس کا ہم جنس حرف ہے: زبر اور ا سے ā بنتا ہے، جیسے بَاب دروازہ؛ زیر اور ي سے ī، جیسے كَبِير بڑا؛ پیش اور و سے ū، جیسے نُور روشنی۔ زبر کے بعد جزم والا و یا ي آئے تو دو مرکب آوازیں بنتی ہیں: يَوْم یعنی yawm، دن، اور بَيْت یعنی bayt، گھر۔ اردو لہجے میں یہ اکثر ایک سادہ لمبی آواز بن جاتی ہیں؛ عربی میں دونوں حصے سنائی دیتے ہیں۔
مد الف کے اوپر ایک لہر دار لکیر ہے: آ۔ یہ ہمزہ اور اس کے بعد لمبے ā کی جگہ آتی ہے۔ کھڑا زبر، جسے عربی میں الف خنجریہ کہتے ہیں، حرف کے اوپر ایک چھوٹی سیدھی لکیر ہے۔ یہ چند بہت عام الفاظ میں لمبا ā لکھتا ہے جن کے املا میں الف نہیں، جیسے هٰذَا یعنی “یہ”۔
یہ علامتیں کہاں ملیں گی، اور کہاں نہیں
قرآن ہر علامت کے ساتھ چھپتا ہے۔ بچوں کی کتابیں، درسی کتابیں، شاعری اور سیکھنے والوں کے لیے لکھا گیا زیادہ تر مواد بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ لغات ہر اندراج کے لفظ پر حرکات لگاتی ہیں۔
اخبارات، ناول، ویب سائٹس اور پیغامات یہ علامتیں چھوڑ دیتے ہیں۔ لکھنے والا صرف وہاں حرکت لگاتا ہے جہاں لفظ غلط پڑھے جانے کا اندیشہ ہو۔ بالغ قاری لفظ کے وزن اور جملے کی نحو سے حرکات خود لگا لیتا ہے۔ اردو میں آپ روز یہی کرتے ہیں: “اس” بغیر حرکت کے لکھا ہوتا ہے، اور آپ سیاق سے جان لیتے ہیں کہ یہ زیر کے ساتھ ہے یا پیش کے ساتھ۔
یوں حرکات ایک سہارا ہیں جس پر انحصار آپ آہستہ آہستہ کم کرتے جاتے ہیں۔ پہلے مکمل حرکات والا متن پڑھیں، پھر وہ متن جس میں صرف غلطی سے بچانے والی حرکات ہوں، پھر سادہ متن۔
آٹھ الفاظ جن میں ہر علامت آ جاتی ہے
ہر لفظ بلند آواز سے پڑھیں۔ ان سب میں مل کر اس رہنما کی ہر علامت موجود ہے۔
- تین زبر: كَتَبَ — اس نے لکھا
- زیر اور جزم: بِنْتٌ — ایک لڑکی
- دو بار پیش، پھر تنوین: كُتُبٌ — کتابیں
- تشدید کے ساتھ زیر: مُعَلِّمٌ — ایک استاد
- الف کے ساتھ تنوین: كِتَابًا — ایک کتاب (بطور مفعول)
- لمبا ū: نُورٌ — روشنی، نور
- مد: الْآنَ — اب
- کھڑا زبر: هٰذَا — یہ
| ب پر | رومن نام | عربی نام | اردو نام اور آواز | مثال |
|---|---|---|---|---|
| بَ | fatḥa | فَتْحَة | زبر: چھوٹا a | كَتَبَ · kataba · اس نے لکھا |
| بِ | kasra | كَسْرَة | زیر: چھوٹا i | بِنْت · bint · لڑکی |
| بُ | ḍamma | ضَمَّة | پیش: چھوٹا u | كُتُب · kutub · کتابیں |
| بْ | sukūn | سُكُون | جزم: کوئی حرکت نہیں | مَكْتَب · maktab · میز، دفتر |
| بّ | shadda | شَدَّة | تشدید: حرف دوہرا | مُعَلِّم · muʿallim · استاد |
| بً | fatḥatān | تَنْوِين الْفَتْح | دو زبر: an | شُكْرًا · shukran · شکریہ |
| بٍ | kasratān | تَنْوِين الْكَسْر | دو زیر: in | فِي بَيْتٍ · fī baytin · ایک گھر میں |
| بٌ | ḍammatān | تَنْوِين الضَّمّ | دو پیش: un | كِتَابٌ · kitābun · ایک کتاب |
| آ | madda | مَدَّة | مد: ہمزہ اور لمبا ā | الْآنَ · al-ʾāna · اب |
| ـٰ | کھڑا زبر | أَلِف خَنْجَرِيَّة | چھوٹا لکھا ہوا لمبا ā | هٰذَا · hādhā · یہ |
حرکات اور تشکیل میں کیا فرق ہے؟
حرکات تین چھوٹی آوازوں کی علامتیں ہیں: زبر، زیر اور پیش۔ تشکیل تلفظ کی تمام علامتوں کا مجموعہ ہے، جس میں جزم، تشدید اور تنوین بھی شامل ہیں۔ عام استعمال میں دونوں الفاظ اکثر ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ اردو میں انہی علامتوں کو اعراب بھی کہہ دیا جاتا ہے، جبکہ عربی نحو میں اعراب لفظ کے آخر کی تبدیلی کا نام ہے۔
عربی حرف کے اوپر چھوٹے دائرے کا کیا مطلب ہے؟
یہ جزم ہے، جسے عربی میں سکون کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حرف کے بعد کوئی حرکت نہیں اور حرف ساکن ہے۔
کیا تنوین کوئی حرف ہے؟
نہیں۔ تنوین دو بار لکھی ہوئی حرکت ہے جو حرکت اور ن کی آواز کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ یہ ن حرف ن سے کبھی نہیں لکھا جاتا۔
عربی اخبارات میں حرکات کیوں نہیں ہوتیں؟
کیونکہ رواں پڑھنے والے کو ان کی ضرورت نہیں۔ لفظ کا وزن اور جملے کی نحو چھوٹی حرکات بتا دیتے ہیں۔ چھپائی میں حرکت صرف وہاں لگتی ہے جہاں لفظ غلط پڑھا جا سکتا ہو۔
اگر بالغ لوگ حرکات کے بغیر پڑھتے ہیں تو کیا مجھے حرکات سیکھنی ہوں گی؟
جی ہاں۔ انہی سے آپ پہلی بار جانتے ہیں کہ کوئی لفظ کیسے بولا جاتا ہے۔ بعد میں آپ ان کے بغیر اس لیے پڑھتے ہیں کہ لفظ آپ کو پہلے سے آتا ہے۔
کیا تشدید کوئی حرکت ہے؟
نہیں۔ تشدید حرف کو دوہرا کرتی ہے۔ مشدّد حرف کی اپنی حرکت پھر بھی ہوتی ہے، جو تشدید پر لکھی جاتی ہے۔
ماخذ
فصاحة کے بارے میں
فصاحة مطالعے کو اولیت دینے والی عربی ایپ ہے جو فصیح عربی سکھاتی ہے۔ اس کا کورس “پڑھنے کی کنجی” 29 مختصر اسباق میں حروف، ان کی جڑی ہوئی شکلیں اور حرکات سکھاتا ہے، اس سے پہلے کہ سیکھنے والا لمبے متن کی طرف بڑھے۔
- پڑھنے کی کنجی میں مشدّد حروف پر، تنوین پر، اور اس پر اسباق ہیں کہ وقف کے وقت لفظ کے آخر کا کیا ہوتا ہے۔
- کوئی بھی متن مکمل حرکات کے ساتھ، کم سے کم حرکات کے ساتھ یا بغیر حرکات کے پڑھا جا سکتا ہے، یوں یہ سہارا قدم بہ قدم ہٹتا ہے۔
- لغت کے اندراجات مکمل حرکات کے ساتھ ہیں، آڈیو سمیت۔
- یہ iPhone، iPad، Mac اور Android پر دستیاب ہے، اور انٹرفیس 17 زبانوں میں ہے۔
- شروع کرنا مفت ہے؛ Premium مکمل لائبریری کھولتا ہے۔
مزید پڑھیں
- عربی حروف لکھتی ہے اور باقی کام آپ کے بھروسے پر چھوڑ دیتی ہے: آپ نے اٹھائیس حروف سیکھے، ایک اصل صفحہ کھولا، اور اسے پڑھ نہ سکے۔ یہ اس حروفِ تہجی میں کوئی کمی نہیں جو آپ کو سکھائے گئے۔ بات یہ ہے کہ عام عربی اپنی تقریباً کوئی مختصر حرکت نہیں لکھتی، اور کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ روانی سے پڑھنے والے اس کی جگہ کیا استعمال کرتے ہیں۔
- اعراب کیا ہے؟ صرف و نحو کا آسان تعارف، اور ایک جملے کی مکمل ترکیب لفظ بہ لفظ: عربی قواعد دو علوم ہیں: علمِ صرف کلمہ بناتا ہے، علمِ نحو اسے جملے میں جگہ دیتا ہے، اور اعراب آخر کی وہ علامت ہے جو یہ جگہ دکھاتی ہے۔ چھ کلمات کا ایک جملہ اسم کی تینوں حالتیں دکھا دیتا ہے۔
- نحوی ترکیب کیسے کریں: ایک عربی جملہ، قدم بہ قدم: ایک عربی جملے کی مکمل ترکیب، بغیر اعراب کی لکھاوٹ سے مکمل اعراب تک، ہر حرکت کی وجہ کے ساتھ۔