اسم، فعل اور حرف کی پہچان: عربی کلمہ کی تین قسمیں
عربی کا ہر لفظ اسم، فعل یا حرف ہے۔ ان تینوں کو ان کی علامتوں سے کیسے پہچانیں، اصل جملوں کے ساتھ، اور وہ دو جگہیں جہاں مبتدی کو دھوکا ہوتا ہے۔
· تحریر Amaan
عربی میں اسم، فعل اور حرف کو کیسے پہچانیں؟
عربی کا ہر لفظ اسم، فعل یا حرف ہے۔ جس لفظ کے شروع میں ال ہو یا آخر میں ة، وہ اسم ہے۔ مضارع فعل أ، ن، ي یا ت سے شروع ہوتا ہے۔ حرف ایک چھوٹا جوڑنے والا لفظ ہے، جیسے فِي، یعنی “میں”۔ اس پر کبھی ال نہیں آتا، اور یہ فعل بھی نہیں۔
عربی نحو ہر لفظ کو تین قسموں میں بانٹتی ہے: اسم، فعل اور حرف۔ انہیں کلمہ کی تین قسمیں کہتے ہیں۔
جس لفظ کے شروع میں ال ہو یا آخر میں ة، وہ اسم ہے: البَيْتُ، یعنی “گھر”، اور مَدْرَسَةٌ، یعنی “ایک اسکول”۔
مضارع فعل چار حروف میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے: أ، ن، ي یا ت۔ يَكْتُبُ کا مطلب ہے “وہ لکھتا ہے”، اور أَكْتُبُ کا “میں لکھتا ہوں”۔
حرف ایک چھوٹا لفظ ہے جو دوسرے لفظوں کو جوڑتا ہے، جیسے فِي، یعنی “میں”۔ اس پر کبھی ال نہیں آتا، اور یہ فعل بھی نہیں۔
شک ہو تو دیکھیں کہ کیا لفظ پر ال آ سکتا ہے۔ يَد، یعنی “ہاتھ”، ي سے شروع ہوتا ہے، مگر اليَد بن جاتا ہے، اس لیے اسم ہے۔ مَرْيَمُ جیسے نام اسم ہیں، اگرچہ ان پر کوئی علامت نظر نہیں آتی۔
اسم، فعل، حرف: عربی کا ہر لفظ ان تین میں سے ایک ہے
اردو قواعد میں اسم، صفت، ضمیر، فعل اور حرف الگ الگ قسمیں ہیں، اور انگریزی گرامر میں اس سے بھی زیادہ۔ عربی نحو ہر لفظ کو صرف تین قسموں میں بانٹتی ہے: اسم، فعل اور حرف۔ عربی میں یہ تینوں نام یوں لکھے جاتے ہیں: اسْم، فِعْل، حَرْف۔ یہی کلمہ کی تین قسمیں ہیں۔
اسم کسی شخص، جگہ یا چیز کا نام ہے۔ فعل بتاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ حرف ایک چھوٹا لفظ ہے جو دوسرے لفظوں کو جوڑتا ہے، جیسے “میں”، “کی طرف” یا “سے”۔ یہاں “حرف” لفظ کی ایک قسم ہے، حروفِ تہجی کا حرف نہیں۔
چونکہ قسمیں تین ہی ہیں، اس لیے جن لفظوں کو اردو قواعد صفت، ضمیر یا متعلق فعل کہتے ہیں، ان میں سے بہت سے عربی میں اسم شمار ہوتے ہیں۔ سبق کے ایک جملے میں الرَّجِيمِ، یعنی “مردود”، شیطان کی صفت ہے، اور اسم ہے۔ الآنَ، یعنی “اب”، بھی اسم ہے، کیونکہ اس کے شروع میں ال ہے۔
روایت ہے کہ علی نے ابو الاسود کو ایک تحریر دی تھی: سارا کلام اسم، فعل اور حرف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عربی نحو اسی تحریر سے شروع ہوئی۔ ابو الاسود دؤلی عربی کے ابتدائی نحویوں میں شمار ہوتے ہیں۔
فصاحة کے نحو کورس کا پڑاؤ 1.1 یہی سکھاتا ہے کہ ان تینوں کو ان علامتوں سے کیسے پہچانیں جو خود لفظ پر نظر آتی ہیں۔
اسم کی پہچان: شروع میں ال، آخر میں ة
اسم کی پہلی علامت ال ہے، جو لفظ کے شروع میں لکھا جاتا ہے اور جسے الف لام کہتے ہیں۔ البَيْتُ کا مطلب ہے “گھر”۔ الدَّرْسُ، یعنی “سبق”، بھی ال سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اسم ہے۔
دوسری علامت لفظ کے آخر میں ة ہے، جسے تائے مربوطہ کہتے ہیں۔ مَدْرَسَةٌ کے آخر میں ة ہے، اس لیے یہ اسم ہے: “ایک اسکول”۔ ایک اسم پر دونوں علامتیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں: الحَدِيقَةِ، یعنی “باغ”، کے شروع میں ال ہے اور آخر میں ة۔
جب کسی لفظ پر دونوں میں سے کوئی علامت نہ ہو تو دیکھیں کہ کیا اس پر ال آ سکتا ہے۔ سُوقٌ، یعنی “بازار”، پر ال آ سکتا ہے: السُّوق۔ اس لیے یہ اسم ہے۔ فعل اور حرف پر کبھی ال نہیں آتا۔
مضارع فعل کی پہچان: شروع کے چار حروف
مضارع فعل چار حروف میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے: أ، ن، ي یا ت۔ سبق کی مثالوں میں چاروں آتے ہیں: يَكْتُبُ یعنی “وہ لکھتا ہے”، أَكْتُبُ یعنی “میں لکھتا ہوں”، تَدْرُسُ یعنی “تم پڑھتے ہو”، اور نَلْعَبُ یعنی “ہم کھیلتے ہیں”۔
جملہ اپنے فعل سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ يَدْرُسُ الآنَ، یعنی “وہ اب پڑھ رہا ہے”، کا پہلا لفظ يَدْرُسُ ہے۔ اس کے شروع میں يَ ہے، اس لیے یہ فعل ہے: “وہ پڑھتا ہے”۔
حروف: چھوٹے جوڑنے والے لفظ
حرف ایک چھوٹا لفظ ہے جو دوسرے لفظوں کو جوڑتا ہے۔ فِي کا مطلب ہے “میں”، إِلَى کا “کی طرف”، اور مِنَ کا “سے”۔ هَلْ کا کام کچھ اور ہے: یہ جملے کو ایسا سوال بنا دیتا ہے جس کا جواب ہاں یا نہیں ہو، جیسے هَلْ تَفْهَمُ الدَّرْسَ؟، یعنی “کیا تم سبق سمجھتے ہو”۔
حرف پر کبھی ال نہیں آتا، اور یہ فعل بھی نہیں۔ حروف تھوڑے سے ہیں، اس لیے انہیں پہچاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں الگ الگ لفظوں کی طرح یاد کر لیا جائے۔
کچھ حروف صرف ایک حرفِ تہجی کے ہوتے ہیں اور اگلے لفظ سے ملا کر لکھے جاتے ہیں۔ ایک جملہ جو بہت سے لوگوں کو زبانی یاد ہے، اس کی مثال ہے: أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، یعنی “میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں”۔ اس کا دوسرا لفظ بِاللّٰهِ دراصل بِ ہے، ایک حرفی حرف، جو اسم اللّٰه سے ملا ہوا ہے۔ باقی لفظ بھی انہی علامتوں پر چلتے ہیں۔ أَعُوذُ کے شروع میں أَ ہے، اس لیے یہ فعل ہے۔ مِنَ حرف ہے۔ اور آخری دو لفظوں کے شروع میں ال ہے، اس لیے وہ اسم ہیں۔
مشقوں میں کسی لفظ کو حرف ماننے کی تین غلط وجہیں پرکھی جاتی ہیں۔ چھوٹا ہونے سے کوئی لفظ حرف نہیں بنتا۔ جملے میں جگہ سے بھی لفظ کی قسم طے نہیں ہوتی، کیونکہ اسم سے پہلے فعل بھی آ سکتا ہے۔ اور اردو قواعد کی قسمیں بھی یہاں فیصلہ نہیں کرتیں۔ عربی لفظ کو خود پرکھیں: جملے میں یہ کیا کام کرتا ہے، اور کیا اس پر ال آ سکتا ہے۔
دو جگہیں جہاں دھوکا ہوتا ہے: يَد اور نام
ہر وہ لفظ فعل نہیں جو ان چار حروف میں سے کسی سے شروع ہو۔ يَد، یعنی “ہاتھ”، ي سے شروع ہوتا ہے اور چھوٹا بھی ہے، مگر اسم ہے، کیونکہ اس پر ال آ سکتا ہے: اليَد۔ فعل پر کبھی ال نہیں آتا، اور حرف پر بھی نہیں۔
شروع کا الف بھی اسی طرح دھوکا دے سکتا ہے۔ إِلَى یعنی “کی طرف”، أَكْتُبُ یعنی “میں لکھتا ہوں”، أُمٌّ یعنی “ماں”، اور أَرْضٌ یعنی “زمین”، چاروں الف سے شروع ہوتے ہیں۔ إِلَى صرف دوسرے لفظوں کو جوڑتا ہے، اس لیے حرف ہے۔ أَكْتُبُ فعل ہے۔ أُمٌّ اور أَرْضٌ پر ال آ سکتا ہے، اور یہ الأُمّ اور الأَرْض بن جاتے ہیں، اس لیے یہ اسم ہیں۔
دوسرا دھوکا الٹی طرف سے ہے: کچھ اسموں پر کوئی علامت نظر ہی نہیں آتی۔ تَعْمَلُ مَرْيَمُ فِي مَدْرَسَةٍ، یعنی “مریم ایک اسکول میں کام کرتی ہے”، میں دو لفظ اسم ہیں۔ مَدْرَسَةٍ کے آخر میں ة ہے، اس لیے اس کی علامت نظر آتی ہے۔ مَرْيَمُ اسم ہے کیونکہ یہ نام ہے، مگر اس پر کوئی علامت نہیں۔ کورس کے اگلے پڑاؤ ایسے اسموں پر پھر بات کرتے ہیں۔
ایک جملہ، تینوں قسمیں
سبق ایک ایسے جملے سے شروع ہوتا ہے جس میں ہر قسم کا لفظ موجود ہے: الطَّالِبُ يَقْرَأُ فِي البَيْتِ، یعنی “طالب علم گھر میں پڑھتا ہے”۔ اس میں دو اسم، ایک فعل اور ایک حرف ہے۔
ایپ میں رنگ بھرا لفظ وہ ہے جس پر اس کی علامت نظر آئے، اور ٹوٹے حاشیے والا لفظ حرف ہے، یعنی چھوٹا جوڑنے والا لفظ۔ یہاں دونوں اسم اور فعل رنگ بھرے ہیں، اور فِي ٹوٹے حاشیے میں ہے۔
- الطَّالِبُ، یعنی “طالب علم”، ال سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اسم ہے۔
- يَقْرَأُ، یعنی “وہ پڑھتا ہے”، يَ سے شروع ہوتا ہے، جو مضارع فعل کے چار حروف میں سے ایک ہے، اس لیے فعل ہے۔
- فِي، یعنی “میں”، دوسرے لفظوں کو جوڑتا ہے اور اس پر کبھی ال نہیں آتا، اس لیے حرف ہے۔
- البَيْتِ، یعنی “گھر”، ال سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اسم ہے۔
فصاحة میں یہ سبق کیسے چلتا ہے
فصاحة کا قواعد والا حصہ iOS اور Android پر “دریافت” میں ہے، اور اس کا آغاز نحو سے ہوتا ہے: 58 مختصر اسباق، جنہیں پڑاؤ کہا گیا ہے، چار درجوں میں۔ A1 “جملے کا ڈھانچا” ہے، A2 “لفظ اور اس کا آخر”، B1 “پورا جملہ”، اور B2 “صورت کا انتخاب”۔ “کلمہ کی تین قسمیں” پڑاؤ 1.1 ہے، A1 کے سولہ پڑاؤ میں پہلا، اور یہ مفت ہے۔
ہر پڑاؤ تین مرحلوں میں چلتا ہے۔ “دیکھیں” اصل جملوں میں قاعدے کو کام کرتا دکھاتا ہے، رنگ بھرے اور ٹوٹے حاشیے والے لفظوں کے ساتھ، جیسا اوپر بیان ہوا۔ “آزمائیں” میں ابتدائی مشقیں اور ثبوت ہیں۔ اس پڑاؤ میں جملے کا فعل، اسم یا حرف تھپتھپانا ہوتا ہے، یہ چننا ہوتا ہے کہ کوئی لفظ حرف کیوں ہے، اور ایک لفظ سن کر اس کی قسم بتانی ہوتی ہے۔ “محفوظ کریں” آپ کے اپنے الفاظ کے لیے ہے: قاعدہ “آپ کی کتاب” میں محفوظ ہوتا ہے، “دہرائی” کے ساتھ۔
ہر پڑاؤ ایپ کی ہر زبان میں الگ لکھا گیا ہے، ترجمہ نہیں کیا گیا۔ پڑاؤ 1.2، “جہاں لفظ آپس میں مل جاتے ہیں”، بھی مفت ہے اور اسی کے بعد آتا ہے۔
تینوں قسمیں، لفظ بہ لفظ
سبق کے الفاظ، ہر ایک کے ساتھ وہ علامت جو اس کی قسم بتاتی ہے، یا یہ کہ علامت کیوں نہیں۔
- اسم: البَيْتُ — گھر
- اسم: مَدْرَسَةٌ — ایک اسکول
- فعل: يَكْتُبُ — وہ لکھتا ہے
- فعل: أَكْتُبُ — میں لکھتا ہوں
- فعل: تَدْرُسُ — تم پڑھتے ہو
- فعل: نَلْعَبُ — ہم کھیلتے ہیں
- حرف: فِي — میں
- حرف: هَلْ — ہاں یا نہیں والا سوال پوچھتا ہے
- دھیان رہے: اسم: يَد — ہاتھ
- بغیر علامت کا اسم: مَرْيَمُ — مریم
اسم، فعل اور حرف کسے کہتے ہیں؟
یہ عربی نحو میں کلمہ کی تین قسمیں ہیں۔ اسم کسی شخص، جگہ یا چیز کا نام ہے۔ فعل بتاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ حرف ایک چھوٹا لفظ ہے جو دوسرے لفظوں کو جوڑتا ہے، جیسے فِي، یعنی “میں”۔
عربی میں فعل اور اسم کا فرق کیسے پہچانیں؟
لفظ کا شروع دیکھیں۔ جس لفظ کے شروع میں ال ہو وہ اسم ہے، اور مضارع فعل أ، ن، ي یا ت سے شروع ہوتا ہے۔ شک ہو تو دیکھیں کہ کیا اس پر ال آ سکتا ہے۔ اسم پر آ سکتا ہے اور فعل پر کبھی نہیں، اسی لیے يَد، یعنی “ہاتھ”، اسم ہے۔
کیا عربی میں صفت بھی اسم ہے؟
عربی نحو میں کلمہ کی تین ہی قسمیں ہیں، اس لیے صفت کی کوئی الگ قسم نہیں۔ سبق میں الرَّجِيمِ، یعنی “مردود”، شیطان کی صفت ہے، اور اسم ہے۔ جنہیں اردو قواعد متعلق فعل کہتے ہیں، ان میں سے کچھ لفظ بھی عربی میں اسم ہیں: الآنَ، یعنی “اب”، ال سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اسم ہے۔
کیا نام بھی اسم ہے، چاہے اس پر نہ ال ہو نہ ة؟
جی ہاں۔ مَرْيَمُ، یعنی “مریم”، نام ہونے کی وجہ سے اسم ہے، اگرچہ اس پر کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ کوئی لفظ ان دونوں علامتوں کے بغیر بھی اسم ہو سکتا ہے۔
فصاحة کا قواعد والا حصہ کیا ہے، اور کیا یہ سبق مفت ہے؟
قواعد فصاحة ایپ میں “دریافت” کا ایک حصہ ہے، iOS اور Android پر۔ اس کا آغاز نحو سے ہوتا ہے: A1 سے B2 تک 58 مختصر اسباق، جنہیں پڑاؤ کہا گیا ہے، اور ہر ایک آپ کی ایپ کی زبان میں لکھا گیا ہے۔ یہ سبق پڑاؤ 1.1 ہے۔ پڑاؤ 1.1 اور 1.2 مفت ہیں، باقی Premium میں شامل ہیں۔
ماخذ
فصاحة کے بارے میں
فصاحة پڑھنے کو اولیت دینے والی عربی ایپ ہے۔ کسی کہانی، پوڈکاسٹ، ویڈیو یا مضمون کا ہر لفظ کھل کر اپنا معنی، مادہ، وزن اور خاندان دکھاتا ہے، اور اسے وقفے وقفے سے دہرائی کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
- iPhone، iPad، Mac اور Android پر دستیاب۔
- انٹرفیس کی زبانیں: انگریزی، عربی، ترکی، روسی، ازبک، ہسپانوی، فرانسیسی، جرمن، انڈونیشیائی، ملائی، اردو، اطالوی، پرتگالی، بنگلہ، قزاخ، سادہ چینی اور آذربائیجانی۔
- شروع کرنا مفت ہے؛ Premium مکمل لائبریری کھولتا ہے اور ادائیگی کا انتظام اسٹورز کرتے ہیں۔
- “دریافت” میں قواعد: نحو، A1 سے B2 تک 58 مختصر اسباق، ہر ایک آپ کی ایپ کی زبان میں لکھا ہوا۔ پڑاؤ 1.1 اور 1.2 مفت ہیں۔
مزید پڑھیں
- اعراب کیا ہے؟ صرف و نحو کا آسان تعارف، اور ایک جملے کی مکمل ترکیب لفظ بہ لفظ: عربی قواعد دو علوم ہیں: علمِ صرف کلمہ بناتا ہے، علمِ نحو اسے جملے میں جگہ دیتا ہے، اور اعراب آخر کی وہ علامت ہے جو یہ جگہ دکھاتی ہے۔ چھ کلمات کا ایک جملہ اسم کی تینوں حالتیں دکھا دیتا ہے۔
- Duolingo عربی صرف انگریزی کے ذریعے سکھاتا ہے: اردو بولنے والوں کے لیے اس کا مطلب: Duolingo پر اردو سے عربی کا کوئی کورس نہیں: اس کا عربی کورس صرف انگریزی بولنے والوں کے لیے ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ اسے Duolingo کی اپنی فہرست میں کیسے جانچیں، اور وہ سات سوال جو کام کرنے والے ذرائع کو چھانٹ دیتے ہیں۔
- عربی اردو لغت جو مادہ اور وزن دکھائے: لغت میں لفظ کیسے تلاش کریں، اور کون سی ایپ کیا کرتی ہے: عربی لغت میں ایک لفظ دیکھنے میں تین مرحلے چھپے ہوتے ہیں: جڑے ہوئے حروف الگ کرنا، مادہ نکالنا، اور ایک جیسے لکھے جانے والے الفاظ میں سے چننا۔ ہر قسم کی لغت آپ کے لیے کیا کرتی ہے، اور آٹھ الفاظ جو اپنا مادہ چھپاتے ہیں۔