مرکزی مواد پر جائیںفصاحة

اردو میں عربی الفاظ: مادے، معنی اور جھوٹے دوست

کتاب، علم، رحمت: اردو اور قرآن کے مشترک عربی الفاظ، ان کے مادے اور معنی کا فرق، حوالوں کے ساتھ۔ urdu mein arabi alfaz

· تحریر Amaan

قرآن کے کتنے الفاظ اردو بولنے والے پہلے سے جانتے ہیں؟

قرآن اکیڈمی لاہور کے مطابق قرآن میں تقریباً 80,000 الفاظ ہیں، مگر اصل الفاظ تقریباً 2,000 ہیں، اور ان میں سے تقریباً 500 اردو میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ادارے کا اندازہ ہے؛ دوسرے ماخذ الفاظ کو مختلف طریقے سے گنتے ہیں۔ مانوس مثالیں: كِتَاب، عِلْم، رَحْمَة۔

قرآن اکیڈمی لاہور کا اندازہ ہے کہ قرآن کے تقریباً 2,000 اصل الفاظ میں سے تقریباً 500 اردو میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔

قرآنک عربک کارپس الفاظ کو دوسرے طریقے سے گنتا ہے اور 3,680 لغوی اندراجات درج کرتا ہے، اس لیے دونوں اعداد کا براہِ راست موازنہ درست نہیں۔

مادے کے لحاظ سے جمع کرنے پر علم، عالم، معلوم، معلومات اور تعلیم ایک ہی خاندان نظر آتے ہیں: مادہ ع ل م۔

کچھ مشترک الفاظ کے معنی بدل گئے: اردو میں حکیم کا پہلا معنی طبیب ہے، جبکہ عربی حَكِيم کا معنی دانا ہے۔

اردو میں ث، س اور ص ایک ہی آواز میں بولے جاتے ہیں، مگر املا تینوں کو الگ رکھتا ہے، اور مادہ پہچاننے میں یہی املا مدد دیتا ہے۔

بہت سے عربی الفاظ کلاسیکی فارسی کے راستے اردو میں آئے، اس لیے ممکن ہے کہ کسی لفظ کا معنی فارسی ہی میں بدل چکا ہو۔

قرآن میں کتنے الفاظ ہیں اور ان میں سے کتنے اردو میں ہیں؟

کوئی ایک متفقہ عدد موجود نہیں، کیونکہ مختلف ماخذ مختلف چیزیں گنتے ہیں۔ قرآن اکیڈمی لاہور لکھتی ہے کہ قرآنِ کریم میں تقریباً 80,000 الفاظ ہیں مگر اصل الفاظ دو ہزار ہیں، اور ان میں سے تقریباً 500 اردو میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک اندازہ ہے، اور گنتی کا طریقہ وہاں درج نہیں۔

دوسرا ماخذ قرآنک عربک کارپس ہے، جو قرآن کے ہر لفظ کا صرفی اور نحوی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ویکیپیڈیا کے مطابق اس میں 77,430 الفاظ کا تجزیہ ہے، اور کارپس کی اپنی فہرست میں 3,680 لغوی اندراجات ہیں۔ یہ دو ہزار اصل الفاظ والے اندازے سے بڑا عدد ہے، اور اس کی وجہ اکائی کا فرق ہے، کسی ایک ماخذ کی غلطی نہیں۔

عربی الفاظ تین سطحوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ متن میں آنے والی ہر صورت، جیسے الْكِتَاب اور كِتَابًا، الگ لفظ ہے؛ لغت کے اندراج میں یہ سب ایک كِتَاب ہیں؛ اور مادے کی سطح پر كِتَاب، كَتَبَ اور كَاتِب سب ایک ہی مادہ ك ت ب ہیں۔ اسی لیے قرآن کے 80 فیصد الفاظ جیسے دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک گنتی کا طریقہ نہ بتایا جائے۔ ہم یہاں اپنا کوئی فیصد نہیں دیتے۔

ایک مادہ، کئی اردو الفاظ

عربی کے زیادہ تر الفاظ ایک مادے سے بنتے ہیں، جو عموماً تین حروف کا ہوتا ہے اور کسی وزن میں ڈھل کر نیا لفظ بناتا ہے۔ اردو بولنے والا اپنے مانوس الفاظ کو مادے کے لحاظ سے جمع کرے تو قرآن کے الفاظ الگ الگ فہرست کے بجائے خاندانوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

مادہ ع ل م اس کی بہترین مثال ہے۔ قرآنک عربک کارپس کے مطابق یہ مادہ قرآن میں 854 بار، 14 صورتوں میں آتا ہے: عَلِمَ 382 بار، عَلِيم 163 بار اور عِلْم 105 بار۔ اردو میں اسی خاندان سے علم، عالم، معلوم، معلومات، تعلیم اور معلم آئے ہیں۔

مادہ ك ت ب قرآن میں 319 بار آتا ہے، جن میں سے 260 بار لفظ كِتَاب ہے۔ مادہ ر ح م 339 بار آتا ہے: رَحِيم 116، رَحْمَة 114 اور رَحْمَٰن 57 بار۔ اردو بولنے والا کتاب، مکتب، کاتب، مکتوب، رحمت، رحیم اور رحمان پہلے سے جانتا ہے؛ اسے صرف یہ دیکھنا ہے کہ یہ ایک ہی جڑ کی شاخیں ہیں۔

جھوٹے دوست: وہ الفاظ جن کے معنی بدل گئے

جھوٹا دوست وہ لفظ ہے جو عربی لفظ جیسا دکھائی دیتا ہے مگر اردو میں کچھ اور معنی رکھتا ہے۔ قرآن یا عربی مضمون پڑھتے وقت یہی الفاظ سب سے زیادہ دھوکا دیتے ہیں، کیونکہ قاری کو لگتا ہے کہ وہ ان کا مطلب پہلے سے جانتا ہے اور وہ رک کر لغت نہیں دیکھتا۔

حکیم سب سے واضح مثال ہے۔ وکشنری اردو حکیم کا پہلا معنی طبیب درج کرتی ہے، جبکہ عربی میں حَكِيم کا معنی دانا ہے۔ قرآنک عربک کارپس کے مطابق حَكِيم قرآن میں 97 بار آتا ہے؛ اردو کا طبیب والا معنی ذہن میں رکھ کر پڑھیں تو یہ آیات غلط سمجھ آئیں گی۔ یہ لفظ حِكْمَة، حُكْم اور مَحْكَمَة (عدالت) کے ساتھ مادہ ح ك م کا حصہ ہے۔

  • لغت: اردو میں پہلا معنی ڈکشنری ہے؛ عربی لُغَة کا معنی زبان ہے۔ عربی میں بولی یا لہجے کے لیے لَهْجَة آتا ہے۔
  • مکتب: اردو میں مدرسہ، ابتدائی اسکول یا مکتبِ فکر؛ فصاحة کی لغت کے مطابق جدید عربی مَكْتَب کا معنی دفتر یا میز ہے۔
  • دفتر: اردو میں آفس، جو وکشنری کے مطابق فارسی سے آیا؛ عربی دَفْتَر کاپی یا رجسٹر ہے، اور دفتر کے لیے مَكْتَب آتا ہے۔
  • عالم: اردو میں ایک ہی املا سے دنیا بھی اور عالمِ دین بھی؛ عربی میں اعراب فرق کرتے ہیں: عَالَم دنیا، عَالِم جاننے والا۔
  • ادب: اردو میں آداب بھی اور ادبیات بھی، اور عربی أَدَب میں بھی دونوں معنی ہیں؛ اس کے برعکس انڈونیشیائی زبان میں یہ لفظ صرف شائستگی اور اخلاق کے معنی میں رہ گیا۔

تلفظ کا فرق: ق، ع، ح، ض، ظ، ث، ذ

اردو عربی الفاظ کو عربی حروف کے ساتھ لکھتی ہے، مگر کئی حروف کو ایک جیسی آواز میں بولتی ہے۔ اس سے املا محفوظ رہتا ہے مگر کان کمزور ہو جاتا ہے: عربی تلفظ کی مشق کے بغیر اردو بولنے والا سن کر نہیں بتا پاتا کہ لفظ میں کون سا حرف ہے۔

اردو حروفِ تہجی پر ویکیپیڈیا کے جدول کے مطابق اردو میں ث، س اور ص تینوں کی آواز س ہے؛ ذ، ز، ض اور ظ چاروں کی آواز ز ہے؛ ح اور ہ ایک جیسے بولے جاتے ہیں؛ ت اور ط بھی ایک ہیں؛ اور ع لفظ کے شروع یا آخر میں خاموش رہتا ہے۔ ق کی اپنی آواز اردو میں باقی ہے، البتہ ہندوستانی صوتیات پر ویکیپیڈیا کے مطابق ہندی میں یہ عموماً ک بن جاتا ہے۔

عربی میں یہی حروف الگ الگ مادے بناتے ہیں۔ سَفَر اور صِفْر اردو میں ایک ہی س کی آواز سے شروع ہوتے ہیں، مگر ایک کا مادہ س ف ر اور دوسرے کا ص ف ر ہے۔ ذَكَرَ، زَمَان، قَاضِي اور ظُهْر اردو میں سب ز کی آواز رکھتے ہیں، مگر چار مختلف حروف پر قائم ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اردو املا یہ حروف پہلے سے الگ رکھتا ہے، اس لیے اردو قاری آنکھ سے وہ فرق دیکھ لیتا ہے جو کان سے چھوٹ جاتا ہے۔

فارسی کا راستہ: اردو کے عربی الفاظ کہاں سے آئے؟

اردو کے بہت سے عربی الفاظ براہِ راست عربی سے نہیں بلکہ کلاسیکی فارسی کے راستے آئے۔ وکشنری اردو لغت، حکیم، مکتب، ادب اور عالم کو فارسی سے لیا ہوا اور فارسی میں عربی سے آیا ہوا درج کرتی ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ کسی لفظ کا معنی اردو تک پہنچنے سے پہلے بدل چکا ہو۔

عملی نتیجہ یہ ہے کہ اردو معنی کو عربی معنی کا ثبوت نہ سمجھیں۔ دفتر اور مکتب اس کی مثالیں ہیں: دونوں اردو میں عام ہیں، اور دونوں کا جدید عربی معنی اردو سے مختلف ہے۔

فارسی کے راستے کا ایک فائدہ بھی ہے: الفاظ عربی رسم الخط میں اپنے اصل حروف کے ساتھ آئے، اور اردو نے انہیں بدلا نہیں۔ اسی لیے اردو میں حرف اور حروف دونوں موجود ہیں، اور حروفِ تہجی میں جمع کی صورت صاف نظر آتی ہے۔ ملائی اور انڈونیشیائی زبانوں نے اس کے برعکس جمع کی صورت حُرُوف لے کر اسے ایک حرف کے معنی میں استعمال کیا۔

یہ فائدہ کیسے اٹھائیں؟

مانوس الفاظ پہچاننا عربی پڑھنے کی طرف آدھا قدم ہے، پورا نہیں۔ اردو بولنے والا کسی آیت یا عربی جملے میں اسما جلد پہچان لیتا ہے، مگر جملہ کیا کہہ رہا ہے، یہ حروفِ جارہ، فعل کے صیغے اور اعراب طے کرتے ہیں، اور یہ چیزیں اردو سے نہیں آتیں۔

طریقہ یہ ہے کہ پہلے عربی جملہ پڑھیں، ہر مانوس لفظ کا عربی معنی طے کریں، پھر ترجمے سے ملائیں۔ جن الفاظ پر یہاں بات ہوئی، جیسے حَكِيم، لُغَة، مَكْتَب اور دَفْتَر، وہاں رک کر لغت دیکھیں۔ ہر نئے لفظ کو اس کے مادے کے ساتھ یاد کریں، تاکہ ایک لفظ اپنا پورا خاندان ساتھ لائے۔

فصاحة اسی مرحلے کے لیے بنی ہے۔ ایپ میں کہانی، پوڈکاسٹ، ویڈیو یا مضمون کا ہر عربی لفظ اپنے معنی، مادے، وزن اور خاندان میں کھلتا ہے، اور اسے وقفے وقفے سے دہرائی کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹ پر لغت کے الفاظ کے صفحات اور حروفِ تہجی کے ہر حرف کا صفحہ بھی موجود ہے۔ فصاحة فصیح عربی اور کلاسیکی متون سکھاتی ہے؛ یہ بول چال کے لہجے، تجوید یا تفسیر نہیں سکھاتی۔

12 مانوس الفاظ اور ان کے عربی خاندان

ہر کارڈ میں اردو لفظ، فصاحة کی لغت سے اعراب کے ساتھ عربی صورت، اس کا عربی معنی، اور اس کا مادہ اور خاندان کا کوئی لفظ درج ہے جسے آپ اگلا سیکھ سکتے ہیں۔

  1. کتاب: كِتَاب — کتاب
  2. علم: عِلْم — علم، سائنس
  3. تعلیم: تَعْلِيم — تعلیم، تدریس
  4. معلومات: مَعْلُومَات — معلومات
  5. رحمت: رَحْمَة — رحمت
  6. حکم: حُكْم — فیصلہ؛ حکم
  7. حکمت: حِكْمَة — حکمت، دانائی
  8. حکیم: حَكِيم — دانا شخص
  9. مدرسہ: مَدْرَسَة — اسکول، مدرسہ
  10. جمعہ: جُمُعَة — جمعہ
  11. سفر: سَفَر — سفر
  12. حیوان: حَيَوَان — جانور
اردو اور عربی کے مشترک الفاظ: معنی کہاں ملتا ہے اور کہاں بدلتا ہے
اردو لفظعربی (اعراب کے ساتھ)مادہعربی معنیاردو میں عام معنی
کتابكِتَابك·ت·بکتابکتاب
علمعِلْمع·ل·معلم، سائنسعلم
معلوماتمَعْلُومَاتع·ل·ممعلوماتمعلومات
رحمترَحْمَةر·ح·مرحمترحمت
جملہجُمْلَةج·م·لجملہجملہ
حیوانحَيَوَانح·ي·يجانورجانور
حکیمحَكِيمح·ك·مداناطبیب؛ دانا
لغتلُغَةل·غ·وزبانڈکشنری؛ زبان
مکتبمَكْتَبك·ت·بدفتر؛ میزمدرسہ، ابتدائی اسکول
دفتردَفْتَر—کاپی، رجسٹرآفس (فارسی کے راستے)
عالمعَالِمع·ل·مجاننے والاعالمِ دین؛ دنیا کے معنی میں عَالَم

وہ الفاظ جو آپ کو پہلے سے معلوم ہیں

  • کتاب ← كِتَاب (کتاب)
  • قلم ← قَلَم (قلم، پنسل)
  • دنیا ← دُنْيَا (دنیا؛ یہ زندگی)
  • صبر ← صَبْر (صبر)
  • وقت ← وَقْت (وقت)
  • جواب ← جَوَاب (جواب)
  • سوال ← سُؤَال (سوال)
  • عقل ← عَقْل (عقل، سمجھ)
  • فکر ← فِكْر (سوچ؛ خیال)
  • علم ← عِلْم (علم، سائنس)
  • حکایت ← حِكَايَة (کہانی، قصہ)
  • تاریخ ← تَارِيخ (تاریخ (ماضی کے واقعات)؛ تاریخ (دن))
  • انسان ← إِنْسَان (انسان)
  • جملہ ← جُمْلَة (جملہ)
  • ہدیہ ← هَدِيَّة (تحفہ)
  • شکر ← شُكْر (شکریہ)
  • سلام ← سَلَام (امن؛ سلام)
  • تمام ← تَمَام (مکمل؛ ٹھیک ہے)
  • قلب ← قَلْب (دل)
  • زمانہ ← زَمَان (زمانہ، دور)
  • درس ← دَرْس (سبق)
  • مدرسہ ← مَدْرَسَة (اسکول)
  • جمعہ ← جُمُعَة (جمعہ)
  • خبر ← خَبَر (خبر)
  • عمر ← عُمْر (عمر؛ زندگی)
  • حکم ← حُكْم (فیصلہ؛ حکم)
  • حکمت ← حِكْمَة (حکمت، دانائی)
  • حکیم ← حَكِيم (دانا شخص؛ حکیم)
  • ادب ← أَدَب (ادب؛ آداب)
  • معنی ← مَعْنَى (معنی)
  • لغت ← لُغَة (زبان)
  • حیوان ← حَيَوَان (جانور)
  • حرف ← حَرْف (حرف (حروفِ تہجی کا))
  • حرکت ← حَرَكَة (حرکت؛ شرارت)
  • مسافر ← مُسَافِر (مسافر)
  • سفر ← سَفَر (سفر)
  • رحمت ← رَحْمَة (رحمت)
  • نور ← نُور (روشنی، نور)
  • معلومات ← مَعْلُومَات (معلومات)
  • تعلیم ← تَعْلِيم (تعلیم، تدریس)
  • قاضی ← قَاضِي (قاضی، جج)

قرآن میں کل کتنے الفاظ ہیں؟

یہ گنتی کے طریقے پر منحصر ہے۔ قرآن اکیڈمی لاہور تقریباً 80,000 الفاظ بتاتی ہے، جبکہ قرآنک عربک کارپس 77,430 الفاظ کا تجزیہ کرتا ہے۔ بنیادی الفاظ کی گنتی میں فرق اور بھی زیادہ ہے: ایک اندازہ دو ہزار اصل الفاظ کا ہے، اور کارپس 3,680 لغوی اندراجات درج کرتا ہے۔

کیا قرآن کے 80 فیصد الفاظ اردو میں استعمال ہوتے ہیں؟

ہمیں کوئی ایسی گنتی نہیں ملی جو طریقہ بتا کر یہ عدد ثابت کرے۔ قرآن اکیڈمی لاہور کا اندازہ یہ ہے کہ تقریباً 2,000 اصل الفاظ میں سے تقریباً 500 اردو میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ فیصد کا دعویٰ تبھی جانچا جا سکتا ہے جب بتایا جائے کہ الفاظ، لغوی اندراجات یا مادوں میں سے کیا گنا گیا۔

اردو کے حکیم اور عربی کے حَكِيم میں کیا فرق ہے؟

اردو میں حکیم کا عام معنی طبیب ہے، جبکہ عربی حَكِيم کا معنی دانا اور حکمت والا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ 97 بار آتا ہے۔ دونوں کا مادہ ح ك م ہے، جس سے حِكْمَة، حُكْم اور مَحْكَمَة بھی بنتے ہیں۔

اردو بولنے والوں کے لیے عربی تلفظ میں سب سے بڑی مشکل کیا ہے؟

وہ حروف جو اردو میں ایک آواز میں مل جاتے ہیں: ث، س اور ص کی آواز س؛ ذ، ز، ض اور ظ کی آواز ز؛ ح اور ہ ایک جیسے؛ اور ع اکثر خاموش۔ عربی میں یہ حروف الگ مادے بناتے ہیں۔ یہ فصیح عربی کے تلفظ کی بات ہے؛ تجوید کے قواعد الگ علم ہیں۔

کیا فصاحة قرآن کی تفسیر یا تجوید سکھاتی ہے؟

نہیں۔ فصاحة فصیح عربی اور کلاسیکی متون پڑھنا سکھاتی ہے: الفاظ، مادے، اوزان اور درجہ وار مطالعہ۔ تفسیر، تجوید اور بول چال کے لہجے اس کے دائرے میں نہیں، اور قرآن کے معنی کے لیے مستند ترجمہ و تفسیر ہی سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماخذ

فصاحة کے بارے میں

فصاحة مطالعے کو اولیت دینے والی عربی ایپ ہے۔ کسی کہانی، پوڈکاسٹ، ویڈیو یا مضمون کا ہر لفظ اپنے معنی، مادہ، وزن اور خاندان میں کھلتا ہے، اور وقفے وقفے سے دہرائی کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

  • یہ iPhone، iPad، Mac اور Android پر دستیاب ہے۔
  • انٹرفیس کی زبانیں: انگریزی، عربی، ترکی، روسی، ازبک، ہسپانوی، فرانسیسی، جرمن، انڈونیشیائی، ملائی اور اردو۔
  • شروع کرنا مفت ہے؛ Premium مکمل لائبریری کھولتا ہے اور ادائیگی کا انتظام ایپ اسٹورز کرتے ہیں۔